دنیا میں موجود 7 عجوبوں کے بارے میں مکمل معلومات

تاج محل

شاہ جہاں کے دور تک مغلوں کی عظیم سلطنت تقریباً پورے برصغیر میں پھیل چکی تھی ۔مغل سلطنت کے خزانے بھرے ہوۓ تھے۔ ممتاز مغل بادشاہ کی تیسری اور سب سے چہیتی بیوی تھی، تاج محل دراصل بادشاہ کی اسی  لاڈلی بیوی کا مزار ہے۔  جو اس نے اپنی بیوی کے مرنے کے بعد اس کی یاد میں بنوایا تھا ۔تاج محل 1632 میں ممتاز کے مرنے کے بعد تعمیر ہونا شروع ہوا ۔اور 1653 میں مکمّل ہو گیا ۔ تاج محل کی تعمیر میں تقریباً تین کروڑ بیس لاکھ روپے خرچ ہو گے تھے۔ اور سلطنت  تقریبًا کنگال ہو گئی تھی۔

جب  شاہ جہاں کے بیٹے اورنگزیب نے باپ کو تخت سے اتار کر  خود قبصہ کر لیا ،تب  شاہ جہاں کو  ایسے قید خانے میں بند کر دیا۔ جہاں وہ کھڑکی سے اپنی محبوب بیوی کا مزار دیکھ سکتا تھا۔تاج محل کی تعمیر استاد احمد لاہوری اور ان کے بہترین کاریگروں نے کی، اور محل کی تعمیر کے بعد شاہ جہاں نے سب کاریگروں کے ہاتھ کٹوا دیے تھے تاکہ وہ دوبارہ اس جیسی عمارت نہ بنا سکیں ۔اور تاج محل آج بھی آگرہ یعنی انڈیا میں اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کھڑا ہے۔  پوری دنیا سے لوگ محبّت کی اس یادگار علامت کو دیکھنے انڈیا کا رخ کرتے ہیں۔

 

پیسا کا ٹیڑھا مینار

پیسا کا مینار اٹلی کے صوبے پیسا میں واقع ہے۔ یہ مینار اپنی تعمیر کے وقت سے ہی جھکنا شروع ہو گیا تھا۔ 185 فٹ اونچے مینار کی 296 سیڑھیاں ہیں ۔اس مینار کا سنگ بنیاد 14 اگست 1173 کو ایک جنگ میں کامیابی کے بعد رکھا گیا ۔اس مرحلے میں صرف اس کی بنیاد اور پہلی منزل بنائی گئی ،دوسری بار 1178 میں اس کی تعمیر شروع کی گئی ۔اور صرف دو اور منزلوں کا اضافہ کیا گیا ،اور کیونکہ مینار کے نیچے مٹی نے بیٹھنا شروع کر دیا تھا اس دفعہ تیسری  منزل پر ارضی طور پر ایک بہت بڑا کلاک لٹکا دیا گیا۔

سنہ 1272 میں اس کی تعمیر کا کام ایک بار پھر شروع ہوا آخرکار 1319 میں اس کی ساتوی اور آخری منزل تعمیر کی گئی۔ 1372 میں اس پر گھنٹی والا حصہ نصب کیا گیا اس حصے میں کل سات گھنٹیاں نصب ہیں۔ جن میں سے ہر ایک موسیقی کے سات اہم سروں  سے ایک سر نکالتی ہے۔ آخری گھنٹی 1655 میں نصب کی گئی، 1990 سے لے کر 2001 تک اس مینار کو سیدھا کرنے اور اس کی جھکی ہوئی سمت کو سہارا دینے کا کام کیا گیا ۔جس کی وجہ سے مینار جو کہ 5.5 ڈگری  جھکا ہوا تھا اس سے کم ہو کر 3.9 رہ  گیا۔

 

دیوار چین

یہ تاریخی  دیوار چین کے  شمال پر واقع ہے ۔یہ چین میں  مشرق سے مغرب کی طرف جاتی ہے۔ یہ دیوار سات سو قبل مسیح میں بنائی گئی تھی۔ اس کا مقصد شمال کی جانب سے آنے والا منگولوں کو روکنا اور ان کے حملوں سے بچنا تھا۔ یہ دیوار کیں صدیوں میں تعمیر ہوئی ۔

شروعات میں تقریباً ہر صوبے نے اپنی اپنی دیوار تعمیر کی ۔چینی بادشاہ  Kun Chi Hong  نے 206 سے 220 قبل مسیح کے دوران ان تمام دیواروں کوآپس میں جوڑ کر بڑا کر دیا ۔اس کی بنائی ہوئی دیوار اب تک بہت تھوڑی رہ گئی ہے دیوار کی مرمت کا کام اس کی شروعات سے لے کر 1700 عیسوی صدی  تک جاری رہا ۔ جو دیوار ہم آج دیکھتے ہیں ، وہ زیادہ تر منگ خاندان نے 1400 عیسوی میں تعمیر کروائی۔  اس دیوار کی لمبائی   تقریباً21196 کلومیٹر ہے، دیوار کی اونچائی 24.9 فٹ، اور چوڑائی 16 فٹ اوسطاً  ہے۔

 

پیٹرا

جنوبی لبنان میں واقعہ  یہ جگہ پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے ہوئے محلات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پیٹرا کو Rose City  بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ جن پہاڑوں کو کاٹ کر یہ بنایا گیا ہے، وہ گلابی رنگت کے تھے ۔یہ عمارت 312 قبل مسیح میں نباطینی لوگوں نے بنائی تھی۔ نباطینی لوگ سعودیہ عرب،لبنان ،شام اور موجود اسرائیل میں رہتے تھے ۔اب یہ جگہ لبنان کی پہچان ہے، اور وہاں کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے یہ جگہ کافی عرصے تک دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہی۔مگر 1812 میں ایک سوئس ماہر آثار قدیمہ Johann Ludwig نے اسے دریافت کیا۔

 

کولوشیم

کولوشیم اٹلی کے شہر روم میں واقع ہے۔ یہ عمارت 70 عیسوی میں تعمیر ہونا شروع ہوئی ،اور 80 عیسوی میں مکمّل ہوئی۔یہ مکمّل طور پر کنکریٹ اور پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس میں تقریباً پچاس سے اسی ہزار افراد بیٹھ سکتے تھے ۔یہ عمارت انسانوں کی وحشت ناک لڑائیوں جیسے کھیل تماشے کے لیے بنائی گئی تھی ۔اور اب اکیسوی صدی میں بھی یہ تباہ حالت میں موجود ہے۔ کولوشیم عظیم روم کی پہچان تھی۔ اب یہ روم کا سب سے بڑا اور سیاحتی تاریخی مرکز ہے۔ 610 فٹ لمبی اور 515 فٹ چوڑی کولوشیم عمارت ،تقریباً 6 ایکڑ پر محیط ہے، اس کی بیرونی دیوار 157 فٹ اونچی ہے۔

 

چیچن اتزا (Chichen Itza)

یہ قدیم شہر 600 عیسوی   میں میکسیکو کے صوبے یکاتان میں مایا لوگوں نے بسایا تھا ۔یہاں پر بے شمار عمارتیں اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ مگر کئیں عمارتیں  زلزلوں کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔ یہ شہر مایا تہذیب کا سب سے بڑا شہر تھا۔ چیچن اتزا نام دراصل مایا زبان کا نام ہے، جس کے معنی ہیں اتزا  کے کنوائیں کے منہ پر،مایا زبان میں  اتزا پانی کے جادوگر کو کہتے ہیں۔ یہ شہر مایا تہذیب کا معاشی گھر بھی تھا، جہاں منڈیاں ، بازار اور بڑی بڑی عمارت  موجودتھیں ۔ ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ لوگ اسے دیکھنے  میکسیکو کی طرف آتے ہیں۔

 

ماچو پیچو (Machu Picchu)

اسے عرف عام میں انکہ(ANKA) کا گم شدہ شہر بھی کہا جاتا ہے، پیرو کے ایک Casco صوبے میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے 7972 فٹ بلند ہے ۔یہ شہر انکہ(ANKA) راجہ PEECHA KOI نے 1438 سے 1472 کے درمیان بسایا۔ یہ انکہ (ANKA)تہذیب کا گھر تھا۔ پر بد قسمتی سے جب اسپین کے لوگوں نے یہاں کہ مقامی باشندوں کے خلاف جنگ شروع کی تو انکہ  کے لوگوں کو یہ شہر تقریباً ایک صدی بعد ہی چھوڑنا پڑا۔ اور پھر تقریباً پانچ صدیاں یہ شہر تاریخ کے اوراق میں گم رہا ۔

آخرکار  1911 میں جب امریکن تاریخ دان HARAM BANGUM نے اسے دریافت کیا تب اس شہر کو بین الاقوامی شہرت ملی اور ماچو پیچو سیاحتی دنیا میں بھی  بہت مشہور ہوا ۔کیونکہ کے شہر کی اکثر عمارات تباہ ہو گئی تھی ،اس لیے 1976 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ شہر کو اصل حالت میں بحال کیا جائے ۔تاکہ آنے والے سیاحوں کو اس شہر کا وجود سمجھ میں آسکے۔ اور یہاں کی کھدائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں انسانی کھوپڑیاں سامنے آئیں ۔اور ماہرین کا دعوہ ہے کہ ،یہ ان ہزاروں عورتوں کی کھوپڑیاں ہیں، جو انکہ کے  لوگوں نے  اپنے سورج دیوتا کی بھیٹ چڑھا دی تھی۔

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!