نشان حیدر پانے والے شہداء

نشان حیدر کا لفظی معنی “شیر کا نشان ” ہے اور یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو جنگ کے دوران اعلی  بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  پاکستان میں سب سے بڑا  سول ایوارڈ نشانِ پاکستان ہے اور سب سے بڑا  فوجی ایوارڈ نشانِ حیدر ہے۔ اس کے علاوہ  نشانِ حیدر کی اہمیت اس حقیقت سے بھی بخوبی کی جاسکتی ہے کہ 1947 (آزادی پاکستان) کے بعد سے اب تک یہ ایوارڈ  صرف 11 شہید فوجیوں کو نصیب ہوا ۔

“دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو، عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن، نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی”

سیف علی جنجوعہ شہید

Saif Ali Janjua
Wikipedia

ان کا تعلق آزادکشمیر رجمنٹ سے تھا ۔ انہوں نے 1947 کی پاک بھارت جنگ میں شہادت نوش کی ۔ سیف علی جنجوعہ پلاٹون کمانڈر کی حیثیت سے کشیمر کے علاقے بدھا خانہ کا دفاع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ انہوں نے  بڑی بہادری سے دشمن کی بھاری مشین گن کا مقابلہ کیا اور بالاآخر مشین گن سے نکلتی ہوئی گولیوں کی زد میں آ گے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوے شہید ہو گئے ۔ انہیں ہلالِ کشمیر سے نوازا گیا ، جسے بعد میں نشان حیدر کا درجہ دیا گیا۔

میجر طفیل محمد (شہید)

Major-Tufail
ISPR Official

میجر طفیل محمد کا تعلق سولہویں پنجاب رجمنٹ ، پاکستان رائفلز سے تھا۔ انھوں نے   7 اگست 1958 کو لاکھم پور میں شہید شہادت نوش کی۔ 1958 میں ، پاکستان اور ہندوستان مشرقی پاکستان کے تنازعہ آپس میں جنگ شروع ہو گئی ۔اسی جنگ کے دوران  میجر طفیل کی کمپنی نے ہندوستانی چوکی کو گھیرے میں لے لیا ، جو غیر قانونی طور پر پاکستان کی حدود میں قائم تھی۔ انہوں نے بڑی دلیری سے چوکی پر حملہ کیا اور اس جھڑپ میں انہیں شدید چوٹیں آئیں ۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ بنا ہتھیار کے دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور ہندوستانیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے انہوں نے تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اور باقیوں  کو قید کر لیا مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوتے شہید ہو گئے اور انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا ۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید

Rashid-Minhas
ISPR Official

پائلٹ راشد منہاس کو فائٹر کنورژن یونٹ (ایف سی یو) میں شامل کیا گیا تھا ۔ انہوں نے  20 اگست 1971 کو شہید شہادت نوش کی۔ جب وہ رن وے پر طیارے کی گشت میں  مصروف تھے تو ان کے ساتھ  طیارے میں بیٹھے پائلٹ نے ان پر تشدد کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کر کے اس کا رخ بھارت کی طرف کر دیا ،راشد منہاس نے زخمی حالت میں مزامت کرتے ہووے ہوے طیارے کا رخ زمین کی جانب کر دیا، اور یوں وہ شہادت کے اعلی رتبے پر فائز ہوےانہوں نے قوم کے وقار کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا  اور انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا ۔

میجر محمد اکرم شہید

Major-Muhammad-Akram
Wikipedia

میجر محمد اکرم کا تعلق 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے تھا ۔ وہ 5 دسمبر 1971 کو شہید ہوۓ۔ میجر محمد اکرم1971 کی پاک بھارت جنگ میں  ایک کمپنی کےکمانڈنگ آفیسر تھے۔چونکہ  انکی کمپنی دشمن کے راستے میں رکاوٹ تھی۔ لہذا  ان کی کمپنی کو مخالفین کی طرف سے زبردست بمپ اور گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میجر محمد اکرم نے کامیابی کے ساتھ دو ہفتوں تک بہادری سے مقابلہ کیا اور آخر کار دشمن کے ساتھ لڑائی میں شہادت کو گلے لگا لیا  ۔اور انہیں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا ۔

کیپٹن راجہ محمد سرور شہید

Capt._Muhammad_Sarwar
Wikipedia

کیپٹن راجہ محمد سرورنے 27 جولائی ، 1948  میں شہادت نصیب پائی۔ اور ان کا تعلق پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ 1948 میں ، بھارت کے ساتھ ایک جنگ کے دوران  کیپٹن سرور نے اوری سیکٹر میں ایک حملہ کیا جس سے دشمن کو بھاری نقصان ہوا۔  اور دشمن سے مقابلے کے دوران ہی انہوں نے شہادت نوش فرمائی اور ان کی بہادری اور شجاعت پر انہیں نشان حیدر کا اعزازملا ۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید

major-raja-aziz-bhatti
ISPR

میجر راجہ عزیز بھٹی کا تعلق 17 پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین 1965 کی جنگ کے دوران ، وہ لاہور سیکٹر کے برکی نامی علاقے میں کمانڈنگ آفیسر تھے  ۔ دشمن کی طرف سے مسلسل پانچ دن تک ان پر گولہ باری ہوتی رہی ، لیکن وہ  پیچھے نہ ہٹے ۔ تاہم ، 10 ستمبر1965  کو توپ خانے کے حملے کے دوران وہ  ایک  شیل سے ٹکرا کر شہادت کے اعلی رتبے پر فائز ہوۓ ۔ اور انہیں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا ۔

میجر شبیر شریف شہید

major-shabbir-sharif
ISPR

وہ 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ 1971 میں میجر شبیر شریف کی یونٹ کو سلیمانکی ہیڈ ورک میں ایک جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے تفویض کیا گیا  ، جو ہندوستانی افواج کے کنٹرول میں تھا۔ میجر شبیر شریف نے 43 بھارتی فوجیوں کو کامیابی کے ساتھ ہلاک کیا اور ان کے چار ٹینک تباہ کردیئے۔ بہادر میجر نے خود دشمن پر اینٹی ٹینک گن سے فائرنگ شروع  کردی، جس کی وجہ سے وہ دشمن کی نظر میں آ گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ 6 دسمبر1971 کو  شہادت کا رتبہ حاصل کیا  ۔میجر کو ان کی بہادری کے اعتراف میں نشان حیدر سے نوازا گیا۔

محمد حسین جنجوعہ شہید

muhammad-hussain-janjua
ISPR

حسین جنجوعہ کا تعلق 20 لانسررجمنٹ سے تھا ۔ اگرچہ وہ ڈرائیور تھے ، لیکن وہ ہمیشہ غیر معمولی کام کرنے کے خواہشمند تھے۔ پاک بھارت تنازعے کے دوران ہرار خورد گاؤں میں  انہوں نے اپنی  فوج کے ساتھ مل کر بھارت کے سولہ ٹینک تباہ  کر دیے اور جنگ کے دوران مشین گن کی گولی کا نشانہ بن گئے اور 10 دسمبر 1971کو شہادت پے فائزہوۓ۔ انہیں ان کی  اس بہادری کے لئے نشان حیدر سے نوازا گیا۔

کیپٹن کرنل شیر خان شہید

captain-sher-khan
Facebook

شیر خان 5 جولائی 1999 کو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوۓ،۔ ان کا تعلق 27 سندھ رجمنٹ سے تھا۔ لائن آف کنٹرول پر ، کیپٹن کرنل شیر خان نے 5 بار دشمن کا مقابلہ کیا ۔ جبکہ دشمن اس بہادر سپاہی کو شکست دینے سے قاصر تھا۔ دو ہندوستانی بٹالین نےبھاری گولہ باری کے ساتھ کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کیپٹن شیر خان نے اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں وہ دشمن کی مشین گن کی گولی کی زد میں آ کر شہید ہو گئے اور انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا ۔

حوالدار لالک جان شہید

hawaldar-lalak-jan
ISPR

حوالدار لالک جان نے 7 جولائی 1999 کو شہادت نوش کی۔ اور ان کا تعلق آرمی کی ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ سے تھا ۔ انہوں نے  رضاکارانہ  طور پر فرنٹ لائن  میں لڑنے  کی درخواست دی ۔  زخمی حالت میں بھی انہوں نے بڑی  بہادری سے دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا اور پاکستان کی سر زمین کا دفاع کیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوے شہید ہو گئے اور نشان حیدر کا اعزاز حاصل کیا ۔

لانس نائیک محمّد محفوظ شہید

Lance-Naik-Muhammad-Mahfouz-Shaheed
Soldiers.Pk            

لانس نائیک محمّد محفوظ شہید کا تعلق 15 پنجاب رجمنٹ سے تھا اورانہوں نے 1971 میں پاک  و ہند کی جنگ  میں شہادت حاصل کی۔ وہ لاہور کی ایک یونٹ واہگہ سیکٹر میں اپنی خدمات انجام  دے رہے تھے ۔ دشمن نے ان پر مشین گن پر حملہ کیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ بغیر کسی ہتھیار کے دشمن کی چوکی کی طرف بڑھے اور بنکر پر پہنچتے ہی دشمن سے لڑائی شروع کر دی اور دشمن  کے ایک سپاہی نے  ان کی پیٹھ میں  چھرا گھونپ دیا اوروہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوے شہید ہو گئے اور ان کی اس بہادری پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا ۔

 

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!