آنکھوں کے بارے میں چند حقائق

آنکھیں صرف دیکھتی ہی نہیں بولتی  بھی ہیں۔ خوبصورت نیلی، نشیلی ، اداس اور مسکراتی آنکھیں ہمارے شعرہ کا بہترین موضوع سخن بھی رہا ہے۔ جبکہ ماہر نفسیات کے قریب چغل خور آنکھیں بھی عام ہیں۔ آنکھیں پڑھنا بھی ایک خاص علم ہے ۔جسے  جاننے والا بغیر کوئی حربہ استعمال کیے  کسی شخص کی کیفیات سے باخوبی آگاہ ہونے کا فن جانتا ہے۔ آنکھیں قدرت کا وہ حسین شہکار بھی ہیں جس کے وجود سے کائنات کا حسن جڑا ہوا ہے۔

انہیں آنکھوں کے بارے میں چند حقائق درج ذیل ہیں۔

  • میڈیکل سائنس کے مطابق آنکھوں میں کام کرنے والے خلیوں کی تعداد تقریباً بیس لاکھ ہے اور ان میں سے اگر  چند خلیے بھی کام کرنا چھوڑ دیں تو انسان قدرتی روشنی سے محروم ہو سکتا ہے۔
  • انسانی آنکھ ایک لمحے میں پچاس چیزوں  دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • آنکھ براہ راست  دماغ سے  تعلق رکھتی ہے ۔ اسی لیے کمزور نظر یا دھندلے پن کے مرض  عموما ًدماغ کی کمزوری کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں۔
  • آنکھ کے دیکھنے کی طاقت کسی بھی جدید کیمرے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ طاقت وار ہے ، جدید ترین کیمرہ بھی فوکس لیتے ہوئے چند سیکنڈ ضرور لیتا ہے جبکہ آنکھ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اپنے مرکز نگاہ کو پا لیتی ہے۔
  • انسان ایک منٹ میں 17 دفعہ پلکیں جھپکتا ہے جو ایک دن میں 14180 اور سال میں تقریباً 92 لاکھ  بنتا ہے۔
  • گفتگو اور پڑھنے کے دوران انسان اپنی پلکیں زیادہ نہیں جھپکتا۔
  • ایک دفعہ پلکیں جھپکنے میں جو وقت صرف ہوتا ہے اسے 100 سے 150 ملی سیکنڈ  بتایا جاتا ہے ۔
  • ایک آنکھ میں ایک ارب اور ستر لاکھ خلیہ پائے جاتے ہیں جو کے انسان کو روشنی میں تمیز کرنے میں معاون ہوتے ہیں ،جن میں سے  70 لاکھ خلیے رنگوں میں فرق کرتے ہیں اور باقی ایک ارب کالے اور سفید رنگ میں فرق جاننے کے لیے مددگار ہوتے ہیں۔
  • دلچسپ بات یہ ہے کے اگر انسانی آنکھ کو معقول حالات اور ماحول میسر ہو تو وہ موم بتی کے شعلے کو 14 میل کے فاصلے سے بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • نئے پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھیں عموما رنگین ہوتی ہیں، اور وہ بچے جب تک 4 سے 13 ہفتے کی عمر تک نہ پہنچ جائیں وہ آنسو بہانے کے فن سے نہ آشنا ہوتے ہیں ۔
  • انسانی آنکھ دس لاکھ رنگوں کو نہ صرف پہچان سکتی ہے بلکہ اس میں ان رنگوں کے مختلف شیڈ میں تمیز کرنے کی بھی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
  • آنسو پانی ,چربی اور چکناہٹ  کا مرکب ہوتے ہیں اور آنکھیں اس وقت تک خشک رہتی ہیں جب تک یہ تینوں چیزیں جسم میں مخصوص مقدار کے مطابق موجود نہ ہوں۔
مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!