کورونا وائرس کے بارے میں چند حقائق

کورونا وائرس کے بارے میں چند حقائق جن کے بارے میں شاید ہی آپ کو معلوم ہو۔

  • کوویڈ ۔19 اور SARS – CoV-2  دونوں میں فرق ہے، کوویڈ ۔19 ایک بیماری ہےجو کہ کورونا وائرس  کی وجہ سے ہوتی ہے۔  اس کے برعکس  SARS-CoV-2 ایک  وائرس کا نام ہے۔
  • کورونا وائرس کو عرفِ عام میں  CoV کہا جاتا ہے ۔ یہ جراثیم کے ایک خاندان کا نام ہے،  اور اس خاندان میں تقریباً 40 قسم کے جراثیم ہیں۔
  • نیا کوروناوائرس (Novel or NVC) کالفظی مطلب ہے کہ یہ ایک نیا جراثیم ہے اور پہلےکسی کو اس کے بارے میں علم نہیں  تھا ۔
  • انسانی مدافعتی قوت بہت سے جراثیم کا مقابلہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چونکہ یہ جراثیم بہت تیزی سے پھیلتا ہے اس لیے مدافعتی نظام کا اس سے لڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
  • کورونا وائرس پہلے انسانی جسم میں سانس کی نالی اور گلے کو متاثر کرتا ہے اور پھر پھیپھڑوں  کو متاثر کرتا ہے  جس کی وجہ سے  سانس میں دشواری  پیدا ہوتی  ہے ۔
  • اس وائرس کے انفیکشن کی ابتدائی علامات میں خشک کھانسی   ،   جسم  کےدرجہ حرارت میں  اضافہ ہونا اور سر درد کی شکایات شامل ہیں۔
  • کورونا وائرس کی علامت موسمی فلو سے بہت ملتی جلتی ہیں جیسا کہ خشک کھانسی ، بخار ، تھکاوٹ ، بعض اوقات پٹھوں میں درد یا سر میں درد کا ہونا شامل ہے۔
  • یہ وائرس بھی شروع میں فلو کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جیسے معمولی طور پر گھر میں فلو ہوتا ہے ۔
  • کورونا وائرس کی علامت میں یہ بھی شامل ہے کے بعض اوقات متاثرہ شخص اپنے  سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت کهو دیتا ہے ۔
  • کورونا وائرس کسی بھی متاثرہ شخص میں فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا. اسی وجہ سے سے یہ متاثرہ انسان سے دوسرے انسانوں میں جلدی متقل ہو جاتا ہے ۔
  • ابھی تک کی تحقیق کے مطابق نیا کورونا وائرس اوسطاً ہر 2 سے 4 صحت مند افراد کو متاثر کرتا ہے اور یہ تعداد موسمی فلو سے زیادہ ہے ۔
  • کورونا وائرس موسمی فلو سے 20 گنا زیادہ اثر کرتا ہے.
  • کورونا وائرس دنیا میں  بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اس نے دنیا بھر میں  ہزاروں کے حساب  سے لوگوں کا کیریئر داؤ پر لگا دیا ہے ۔
  • کوویڈ ۔19 سے ہونے والی اموات کا حساب درستگی کے ساتھ  کرنا ابھی  مشکل ہے ، لیکن ابھی تک کی ریسرچ کے مطابق  اس کا تخمینہ  1 سے 3  فیصد ہے۔
  • کورونا وائرس سےمتاثرہ  70  سال سے زائد عمرکے  افراد میں اموات کی شرح 5 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے ۔
  • یہ وبا اتنی تیزی سے پھیلی کہ پہلے 2 ماہ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اور تیسرے ماہ کے آخر میں 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ۔
  • وبائی مرض اس وقت تک دنیا بھر میں تیزی سے پھیل چکا ہے یہاں تک کے Easter Island (جو کہ چِلی کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے )میں 42 سالہ شخص میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ۔
  • ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو نفسیاتی طور پر اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ اس وائرس سے کروڑوں افراد متاثر جب کہ اموات  لاکھوں کی ہو گی ۔
  • دنیا میں کسی کو بھی اب تک علم نہیں ہوا کے یہ وائرس کہاں سے آیا. البتہ پینگوئن اور چمگادڑ میں اس سے ملتا جلتا وائرس موجود ہوتا ہے ۔
  • اس بات کا بھی ذکر ہو رہا ہے کہ یہ وائرس پہلے کسی جانور میں آیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا۔
  • چین کے شہر ووہان میں جب یہ وبا شروع ہوئی تو وہاں پر سب سے پہلے ان بازاروں کو بند کیا گیا جہاں پر جنگلی جانور فروخت ہوتے تھے ۔
  • چین میں جب بھی کسی انفیکشن کا شبہ ہوتا ہے ہے تو اُس جگہ فوری  طور پر لاک ڈاؤن کر دیا جاتا ہے ،  مگر اس بار بہت دیر ہو چکی تھی کیوں کے یہ وائرس بہت  تیزی سے لوگوں میں پھیل چکا تھا ۔
  • کورونا وائرس کے حجم کا تصور کرنے کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ سوئی کی نوک پر تقریبا 100 ملین کورونا وائرس آسانی سے رکھے جاسکتے ہیں۔
  • جب وائرس سے متاثرہ شخص کو کھانسی ہوتی ہے تو اس کے تھوک کے ایک ذرے میں اربوں کے حساب سے وائرس کے چھوٹے چھوٹے ذرات موجود ہوتے ہیں ۔
  • جو لوگ وائرس سے متاثر ہونے سے ڈرتے ہیں وہ ماسک کا استعمال کرتے ہیں لیکن ماسک بھی 100 فیصد حفاظت نہیں کر سکتا  بہر حال ماسک کے استعمال سے انفیکشن کا    خطرہ  نسبتاً  کم ہو جاتا  ہے ۔
  • ہوا میں کورونا وائرس تین گھنٹے تک  اپنی اصل حالت میں  رہتا ہے (یعنی وہ حالت جس میں یہ  صحت مند لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے)۔
  • کورونا وائرس پلاسٹک اور اسٹیل کی اشیاء پر تین دن، کاغذ اور گتے پر ایک دن اور Copper پر چار گھنٹے تک اپنی اصل حالت  میں زندہ  رہتا ہے ۔
  • اس وائرس سے بچاؤ کے لیے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کے اپنے ہاتھوں کو صاف رکھیں ۔ اور ماسک کا استعمال کریں۔
  • اگر آپ کو صابن سے ہاتھ دھونے کا موقع نہیں ملتا تو آپ Hand Sanitizer  استعمال کریں ۔
  • ابھی تک کورونا وائرس کے خلاف دنیا بھر میں موجودتمام Antibiotic بیکار ہیں ۔
  • کوویڈ ۔19 کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں بڑھ سکتی ہیں جب تک کے اس کی ویکسین یا کوئی موثر علاج نہیں مل جاتا ۔
  • ریسرچ کے مطابق . کوویڈ ۔19 کی ویکسین 2021 کے درمیان یا آخر تک تیار ہونے کا امکان ہے.
  • ابھی تک کورونا وائرس کے لئے کوئی علاج موجود نہیں ۔  ہر متاثرہ شخص کا علاج اس کے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر کیا جا رہا ہے۔
  • ابھی تک کوویڈ ۔19 سے دنیا بھرمیں نو   لاکھ سے زائد  متاثرہ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں  ۔
  • کوویڈ ۔19 سے متاثرہ تقریباً 80 فیصد مریضوں کو  کسی خاص طبی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی   وہ گھر میں ہی خود کو قرنطینیہ کر کے چھ سات دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔
مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!