نماز اور وضو سے حاصل ہونے والے فوائد

وضو سے حاصل ہونے والے صحت کے فوائد

وضو  کے دوران جب انسان اپنے ہاتھ ، چہرے اور پاؤں کو دھوتا ہے تو  اس عمل  سے جسم پر موجود بہت سے  جراثیم سے بھی ختم ہو جاتے ہیں اور اس کی صحت تندرست رہتی ہے  ۔اور جب یہ عمل دن میں پانچ پرتبہ دہرایا جاۓ تو اس کے بے پناہ فوائدہیں ۔

  • جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کا  مؤثر طریقہ یہ ہے کہ دن میں پانچ بار ہاتھ دھوئے جائیں۔
  • وضو اعضاء میں تناؤ اور بےچینی کم کر کے سکون فراہم  کرتا ہے ۔
  • وضو  کے لیے اگر نیم گرم پانی استعمال کیا جاۓ تو  اس سے جسم میں موجود جراثیم ، الرجی اور دھول کے ذرات کو دور کرنے میں مؤثرمدد ملتی ہے۔
  • غرارہ کرنے  سے سانس کے وائرل انفیکشن بھی کم ہوجاتے ہیں۔  اس سے  منہ کی بدبو میں بھی کمی ہوتی  ہے۔
  • پانی سے ناک کی صفائی،  ناک میں جراثیم کو کافی حد تک اس کی کم کر دیتی ہے۔ناک کی صفائی، الرجی اور ناک میں ہونے والی سوزش کا بہترین علاج ہے, اور سانس لینے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔
  •  وضو کے دوران چہرے کو دھونا تازگی کے ساتھ چہرے کی رنگت کو بہتر بنانے کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔
  • وضو کے دوران کانوں کی صفائی بھی ضروری ہے کے اس سے کان میں موجود گندگی ختم ہو جاتی ہے ۔ وضو  دن میں پانچ بار گیلی انگلیوں سے کان صاف کر کے بیرونی حصے سے دھول اور جراثیم میں کمی کا مؤثر طریقہ ہے۔
  • اس کے علاوہ گردن کا مسح کرنے سے آپ کے دماغی توازن خراب ہونے کے امکانات کافی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔
  • وضو کے دوران پاؤں دھونے سے ان پر موجود گندگی ختم ہو جاتی ہے ۔ ہاتھوں کی انگلیوں سے پاؤں کی  انگلیوں کا رگڑنا ذیابیطس اور جسم سے درد، دور کرنے کا اچھا طریقہ ہے ۔ پیروں  کے اوپر اور نیچے والے حصے میں بہت سےایسے حصے موجود ہیں ، جنہیں  وضو کے دوران دبانے سے کمر اور جوڑوں کے درد ، وغیرہ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 

نماز کے حیرت انگیز صحت سے متعلق فوائد

صحت الله کی طرف سے ایک بہترین  نعمت ہے ۔  اسی طرح، اپنے آپ کو صحت مند رکھنا ایک فطری عمل ہے۔ نماز کے ذریعے بہت سے جسمانی اور روحانی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کوئی شخص صرف اس صورت میں ہی نماز کے فوائد حاصل کرسکتا ہے ۔جب وہ اللہ اور اس کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم کے مطابق نماز ادا کرتا ہے ۔ پرسکون ، مذہبی اور روحانی طریقے سے نماز پڑھنے کے زیادہ فوائد ہیں۔

نماز ادا کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جیسے روحانی، مذہبی، جسمانی، ذہنی، معاشی وغیرہ۔

  • صحت، قلبی خوشی اور اللہ سے ہم آہنگی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
  • باقاعدگی سے نماز کی ادا کرنا جسم سے اضافی کیلورییز ختم کرنے میں مدد دیتی ہے، اور اپنا وزن متوازن  رکھاجاسکتاہے،جو کہ صحت مند ہونے کی نشانی ہے ۔
  • جوڑوں اور پٹھوں میں درد کی شدت میں کمی کرتی ہے اور انہیں مضبوط رکھتی ہے ۔
  • انسان کے دل و  دماغ اور جسم کے لیے بھی بہت مفید ہے ۔
  • قیام کے دوران جسم کے نچلے حصے میں خون کے مناسب بہاؤ کو یقینی بناتی ہے۔
  • نماز میں آگے کی طرف جھکانے کے عمل کو رکوع کہتے ہیں ۔اور اس سے آپ کے کمر کے درد کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رکوع کندھے، کہنی کی کلائی، گھٹنوں اور ٹخنوں میں لچک پیدا کرتا ہے، رکوع کی حالت میں پیٹ پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے قبض اور  گردے کے مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • سجدہ دماغ میں خون کے بہاؤ کو یکساں رکھتا ہے ۔ جس کی وجہ سے خون کے بہاؤ میں آسانی ہوتی ہے۔     سجدہ نکسیراور سر درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
  • نماز میں سلام پھیرنا گردن کو مضبوط بناتا ہے۔ اور گردن کے جوڑ کو ڈھیلا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ کندھے اور اوپری کمر کے پٹھوں کو آرام پہنچانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ سلام پھیرنا گردن سے گزرنے والے تمام اعصاب کو تازہ دم کرتا ہے، جو سر درد کے لیے بہت موثر ہے ۔

 

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!