انسانی دماغ کے بارے میں چند حقائق

انسانی دماغ ٹھوس نہیں ہوتا یہ نرم اور لچک دار ہوتا ہے۔ یعنی کے پلاسٹک کی طرح کا ہوتا ہے  اسےکھینچ کر لمبا یا چھوٹا کر کیا جا سکتا ہے۔

ہمارا دماغ ہمارے جسم کے کل وزن کا صرف دو فیصد ہوتا ہے، لیکن یہ جسم کی پیدا کردہ 20 فیصد توانائی خرچ کرتا ہے۔

دوران حمل ماں کے پیٹ میں موجود بچے میں  ہر منٹ میں تقریباً ڈھائی لاکھ دماغی خلیات بنتے ہیں ۔

ایک بالغ شخص کے دماغ میں  ایک سو بلین دماغی خلیات ہوتے ہیں اور یہ دس ہزار سے زائد الگ اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں ۔

ہر دماغی خلیہ 40 ہزار سینوپ سے جڑا ہوتا ہے، سینوپ کے ذریعے پورے عصبی نظام میں معلومات کی ترسیل ہوتی ہے۔

ہمارے دماغ کی معلومات کو جانچنے اور اسے منتقل کرنے کی رفتار 432 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ رفتار دنیا کی تیز ترین فارمولا ون کار ریس سے بھی زیادہ ہے۔

ایک انسانی دماغ 12 سے 25 واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے، اس بجلی سے LED لائٹ روشن ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پیچھلے دس بیس سالوں سے ہمارے دماغ چھوٹے ہو گے ہیں ، اور پہلے کے انسان کے مقابلے میں اب ہمارے دماغ کا حجم صرف ایک ٹینس بال جتنا رہ گیا ہے۔

انسانی دماغ کے خلیے، کائنات اور انٹرنیٹ ان سب کے بڑھنے کا طریقہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔

دماغ کے ریت کے ذرے جتنے ٹشو میں تقریباً ایک لاکھ نیورون اور ایک عرب سیناپس ہوتے ہیں، اور یہ سب ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

انسانی دماغ میں ڈیٹا سٹوریج کی پیمائش کا کوئی پیمانہ ہی نہیں ہے لیکن ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسانی دماغ کی گنجائش 25 لاکھ گیگا بیٹس ہوتی ہے یا اس سے بھی زیادہ۔

بالغ انسانی دماغ کا 60 فیصد خشک حصہ چربی ہوتا ہے جو جسم میں موجود کولسٹرول کا 25فیصد ہوتا ہے ۔

بچوں کی پیدائش کے وقت انکا دماغ ان کی جسامت کے لحاظ سے بڑا ہوتا ہے ۔

دماغ کی نشونما 25 سال کی عمر میں مکمّل ہوتی ہے لیکن عقل اور دانشوری انسان کے مرنے تک اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی یا کم ہوتی رہتی ہے ۔

انسانی دماغ میں ایک دن میں تقریباً بارہ ہزار پچاس ہزار خیالات پیدا ہوتے ہیں یہ سوچنے والے پر کہ وہ زیادہ سوچے یا کم ۔

دماغ کے تمام خلیے ایک جیسے نہیں ہوتے، دماغ میں نیورون کی دس ہزار اقسام ہوتی ہیں۔

دماغ کو تقریباً پانچ منٹ آکسیجن نہ ملے تو دماغ کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق انسان جب انٹرنیٹ استعمال کرے تو سوچ بچار پر کم اور یاداشت پر زیادہ توجہ دیتا ہے لیکن یہ عمل دماغ کو کمزور کرتا ہے ۔

روزانہ  موبائل کا حد سے زیادہ استعمال دماغ کے لیے مضر ہے بلکہ وہ دماغی کینسر بھی پیدا کر سکتا ہے۔

موبائل کا استعمال انسان میں نیند اور گھبراہٹ کے مسائل پیدا کرتا ہے ۔

انسان کے ضروری ہے کہ وہ رات کو جلدی سو جائے کیوں کے اس سے یادیں مستکم ہو جاتی ہیں ۔

اگرچہ سوتے ہوے کافی دماغی حصے بیدار رہتے ہیں دراصل وہ یادوں کو پروسیس کرتے ہیں اور غیر اہم یادوں کو مٹا دیتے ہیں اس لیے 24 گھنٹوں میں سے 8 گھنٹے سونا لازمی ہے ۔

جب انسان ہنستا ہے تو دماغ کے دو حصے amygdala اور hippocampus پر خوش گوار اثرات بڑھتے ہیں کیوں کے یہ دونوں حصے انسان میں ڈپریشن پیدا کرتے ہیں ۔

ہنسنے سے انسان میں سٹریس پیدا کرنے والے ہارمون کی افزائش رکتی ہے ، اور خون کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے یوں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

انسان جب بچوں کی ہنسی سنتا ہے تو مس میں oxytocin ہارمون کی تعداد بڑھتی ہے اور یہ ہارمون ہمارے اندر خوشی کا احساس بڑھتا ہے۔

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!