ارطغرل ڈرامہ سیریز کے تمام کرداروں کی اصل تاریخ

ارطغرل ڈرامہ سیریز کے تمام کرداروں کی اصل تاریخ

پاکستان میں جو لوگ ارطغرل ڈرامہ سیریل کے مداح ہیں۔  وہ جانتے ہیں کہ کس طرح ارطغرل نے قرآن حکیم اور  حدیث  کے روشنی میں اسلامی طرز زندگی کی تعلیم دی۔ اس  ڈرامہ سیریز  کی ترکی میں عکس بند ی کی گئی۔

ڈرامہ سیریل ارطغرل وزیرِاعظم عمران خان کی خصوصی فرمائش  پر اردو ترجمے کا ساتھ پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے۔

اس  ٹی وی سیریل میں زیادہ تر  کرداروں کے نام تاریخ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور انہوں نے ہماری عظیم اسلامی تاریخ اور سلطنت عثمانیہ کی بنیاد  میں بہت سی اقدار کا اضافہ کیا ہے ۔ ہم نے مختلف کتابوں اور ویب سائٹس کی مدد سے  سے ان کرداروں کے بارے میں کچھ حقیقی معلومات اکٹھی کی ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

سلیمان شاہ

وہ کئی قبیلے کے  قائد تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خراسان میں گزارا اور پھر ہجرت کرکے ترک کی سرزمین کی طرف چلے گئے اور سلجوق سلطنت میں ڈیرہ لگایا۔ ان  کی شادی حائیم خاتون سے ہوئی تھی۔  ان کا انتقال 1227 میں شام میں دریائے فرات عبور کرنے کے دوران ہوا۔ اس کی قبر شام کے شہر  قلات جبار میں واقع ہے۔

حائیم خاتون

حائیم خاتون ارطغرل غازی کی والدہ اور سلیمان شاہ کی اہلیہ تھیں۔ وہ مرتے دم تک  مشکل سفر میں اپنے بیٹے ارطغرل کے ساتھ رہیں۔

غازی ارطغرل

 Dirilis-Ertugrul-Portrait
HC Art

 

 

 

 

 

 

 

ارطغرل  غازی سلیمان شاہ کے بیٹے تھے، جو کئی قبیلہ کے  سردار تھے۔ وہ خراسان سے ہجرت کرکے سلجوق سلطنت میں داخل ہوئے ۔ ارطغرل  ایک بہادرشخص تھے  اور ہمیشہ اسلام کے لئے لڑنے پر تیار رہتے تھے۔ ان کی روحانی پرورش  ابن عربی نے کی ۔ ارطغرل  غازی اپنے والد کی وفات کے بعد کئی قبیلے کے رہنما بن گئے ۔ غازی کی  پوری زندگی اسلام کی راہ میں حق کے لیے لڑتے ہوۓ گزری۔ انہوں نے سلجوق سلطنت کی مدد سے بہت سی جنگوں میں ٹیمپلرز اور منگولوں کو شکست دی۔

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

ارطغرل کے 3 بھائی تھے۔ ان کی شادی سلجوق شہزادی  حلیمہ سلطان سے ہوئی  اور ان کے تین بیٹے (گندوز ، ساوسی اور عثمان) تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے عثمان نے کئی سالوں کے بعد ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جو 6 صدیوں تک برقرار ہی۔جسے سلطنتِ عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

حلیمہ سلطان

ارطغرل غازی کی اہلیہ حلیمہ سلجوق سلطنت کی شہزادی  تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت وفادار تھیں اور انہوں  اپنی ساری زندگی  غازی  کی حمایت  میں  وقف کر دی تھی۔ وہ محل کی بجائے خیموں میں زندگی کو ترجیح دیتیں۔ ان کے گھر ہی  عثمان   کی پیدائش ہوئی جنہوں  نے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔

عثمان اول

ان کی ولادت ارطغرل غازی کے گھر ہوئی ۔ وہ ارطغرل غازی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ غازی کے انتقال کے بعد ان کی بنائی ہوئی  ریاست چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی۔ عثمان نے بھی اپنی خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی جو بعد میں ایک عظیم سلطنت میں تبدیل ہوگئی۔

بامسی بیرک

حقیقی زندگی میں بامسی بیرک  کبھی ارطغرل غازی سے نہیں ملے، اس ڈرامہ سیریز میں اس بہادر کے کارناموں کو یاد  رکھنے کے لئے سیریز میں اس  کردار کو شامل کیا گیا۔

بامسی ترک تاریخ کا ایک افسانوی کردار ہیں  اور بہت سی ترک کہانیوں میں ان کا ذکر زدِ عام  ہے۔ وہ ایک بہت مضبوط  شخصیت کے مالک اور جارحانہ جنگجو تھے۔ انہوں نے بازنطینی سلطنت کے تہ خانے میں تقریبا 16 سال گزارے۔

ترگت الپ

حقیقی  تاریخ میں ترگت الپ ارطغرل غازی کے  ایک حقیقی ساتھی تھے۔ وہ ایک سچے دوست اور غازی  کے بہت زیادہ وفادار تھے۔ وہ اپنی کلہاڑے سے لڑائی کے لئے مشہور تھے۔ ان کی  ساری زندگی ارطغرل غازی کے ساتھ حق کے لیے  لڑائیوں میں گزری۔ وہ کئی قبیلے میں الپ کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے 125 سال کی طویل زندگی گزاری اور ارطغرل  کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایک  عظیم سلطنت قائم کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔

گندوغدو اور سنگورٹکن

ارطغرل کی  زندگی  میں مشکلات تھیں۔  لیکن ان  کے یہ دو   بھائی خاموشی سے رہنا چاہتے تھے ، انہوں نے اپنا راستہ ارطغرل سے الگ کیا  اس سے زیادہ مورخین ان کے بارے میں نہیں جانتے ۔

دندار بی

جب ارطغرل اپنے مشکل سفر پر تھے اور ان  کے دو بھائی انہیں  چھوڑ کر چلے گئے تو دندار بی نے ان  کی حمایت کی ۔ وہ ایک عظیم جنگجو بھی تھا  لیکن بعد میں ، اس نے عثمان غازی کی مخالفت کی اور اس کے ہاتھوں مارا گیا۔

ابن عربی

وہ ایک صوفی ، فلسفی  اور اسلامی اسکالر تھے۔ انہوں نے بہت سی کتابیں بھی  لکھیں۔ ان کی تحریروں کا مسلمانوں پر  بہت اثر ہوتا  تھا۔ انہوں نے ارطغرل کی روحانی  پرورش بھی کی ۔ وہ اندلس میں 1165 میں پیدا ہوۓتھے۔ انہوں  نے اسپین سے عرب تک تمام اسلامی علاقوں کا سفر کیا اور پھر آخر کار دمشق پہنچ گئے۔ وہ 75 سال کی عمر میں 1240 ء میں دمشق میں فوت ہوۓ ۔

 سعدتین کوپک

اس کی خواہش  سلطان بننا تھا۔ وہ ہمیشہ کھیل   رچاتا رہتا تھا۔  اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنے لوگوں ایک دوسرے کے خلاف بڑھکاتا رہتا ۔ سلطان علاؤ دیں اور اس کی اہلیہ کو مارنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے سلطان علاؤ دین کے بیٹوں کے ذہنوں میں بھی زہر بھر  دیاتھا۔  لیکن بعد میں ، کے خوسرادوم  نے اس کی موت کا فرمان جاری کیا اور ارطغرل غازی نے اس کا  سر کاٹ کر محل کی دیوارپر لٹکا دیا ۔

 ارتک بی

ڈرامہ سیریل  میں ارتک بی  کو ارطغرل غازی کے لئے بہت اہم کردار ادا کرتے ہوۓ دکھایا گیا ۔ لیکن  اس کے بر عکس اصل تاریخ میں ، وہ کبھی بھی غازی  سے نہیں ملے ۔

العزیز

العزیز عظیم سلطان صلاح الدین ایوبی کے  پوتے تھے۔ جنہوں نے عیسائیوں اور صلیبیوں کو شکست دے کر  یروشلم فتح کیا اور ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دی۔

عزظیر غازی العزیز کے والد تھے۔ جب وہ صرف تین سال کے تھے تو ان کے والد کی وفات ہوگئی تھی۔انہیں حلب  کی سرداری وراثت میں ملی ۔ لیکن اس وقت ان کے  ساتھ 17 سال کی عمر تک  ایک ولی مقرر کیا ۔

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!