پاکستان کے چند پراسرار مقامات

غاروں کا شہر

غاروں کے اس شہر کوبیلا کہتے ہیں ، یہ بلوچستان کے ضلح لسبیلا سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے جِنوں کا شہر بھی کہا  جاتا ہے ۔یہاں موجود پہاڑوں میں بےشمار غار بنے ہوئے  ہیں،  ان غاروں کو کس  نے بنایا  اور  یہاں کون رہتا تھا، اس  بارے میں کوئی نہیں جانتا ۔ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ غار تقریباً 1350 سال پرانے ہو سکتے ہیں۔

ان پہاڑوں میں اب تک تقریباً پندرہ ہزار کمرے دریافت ہو چکے ہیں ،جن میں کھڑکیاں بھی  لگی ہوئی ہیں ۔اور ان پہاڑوں کے اندر مختلف راستے بھی ملے جو ان کمروں کو آ پس میں جوڑتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے حوالے سے ایک قصہ یہ بھی مشہور ہے کہ اس شہر میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا جسکی ایک بیٹی تھی اور اس پر جنّات نے قبصہ کیا ہوا تھا، اور پھر ایک شہزادے نے اس شہزادی کو جنّات کے قبصے سے چھڑوایا۔ اور اسی وقت سے جنّات نے اس جگہ پر بسیرا کر لیا تھا ۔اور اب یہاں جنات بستے ہیں، لیکن بہت سے لوگ  آج بھی اس جگہ سے ناواقف ہیں اسی  وجہ سے یہ سیاحتی مقام نہ بن سکا۔

منگو پیر کا مزار (کراچی)

منگو پیر کراچی کے پرانے ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے میں پیر خواجہ سخی سلطان، جنہیں  منگو پیر بھی کہا جاتا ہے ان ،کا مزار موجود ہے۔ اسی مزار کے احاطے میں ایک انتہائی حیرت انگیز تالاب بھی موحود ہے ۔اس تالاب میں درجنوں مگرمچھ رہتے ہیں ۔ ان مگرمچھوں کو مزار میں رہنے والے لوگ ان کے پاس جا کر کھانا کھلاتے ہیں۔ اور حیرت انگیز طور پر یہ کسی بھی انسان پر حملہ  نہیں کرتے۔

کہا جاتا ہے، کہ پیرخواجہ سخی سلطان 13ویں صدی میں عراق سے اس جگہ پہنچے۔ اس وقت کراچی میں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہوا کرتے تھے۔ جہاں مچھیرے رہا کرتے تھے ،پھر پیر خواجہ سخی سلطان نے اسی تالاب کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیا جہاں درجنوں مگرمچھ پہلے سے موجود تھے۔وہ ان کے پاس جا کر ان کو کھانا بھی کھلاتے تھے۔لیکن یہ پراسرار مگرمچھ کہاں سے آئے؟  کچھ لوگوں کا کہنا ہے یہ جوئیں ہوا کرتی تھیں اور منگو پیر نے انہیں مگرمچھ  بنا دیا۔

لیکن اس کے برعکس ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ،یہ یہاں ہزاروں سال سے رہ رہے ہیں یہ تالاب ایک سیلاب آنے کی کی وجہ سے بنا تھا۔ اور یہ مگرمچھ سیلاب کے ذریعے اس جگہ پر پہنچے تھے، اور پھر ان کی نسل میں اضافہ ہوتا رہا اور  انہوں اسی تالاب میں ہی بسیرا کر لیا ۔یہ مگرمچھ  ہر قسم کا کھانا کھا لیتے ہیں، جن میں حلوہ تک شامل ہے۔

چوکنڈی قبرستان

چوکنڈی ٹاؤن  سے چوکنڈی قبرستان  کراچی سے تقریباً 29 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ قبرستان  پندراہویں صدی سے اٹھاراہویں صدی کے درمیان بنایا گیا تھا۔ چوکنڈی  کا مطلب چار کونے ہوتا ہے ، اس قبرستان کو چوکنڈی اس لیے کہتے ہیں کیوں کہ ،قبر کے بھی چار کونے ہوتے ہیں۔ اس قبرستان میں بہت سے نامور لوگ دفن ہیں ۔جن میں اپنے وقت کے بڑے  بڑے راجہ اور سورما ء شامل ہیں۔

اس قبرستان کے حوالے سے ایک اور انتہائی دلچسپ بات بھی مشہور ہے ، کہ یہ جگہ خطرناک ہے اور یہاں جنّات کا بسیرا ہے اسے سندھ  کے سب سے خطرناک علاقوں میں سے ایک  علاقہ بھی کہا جاتا  ہے۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے  کہ رات میں  یہاں موجود قبریں گرم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور قبرستان  سے آوازیں بھی آتی ہیں ۔ اسی لیے شام کے بعد اس   جگہ   جانے  سے منع کیا جاتا ہے۔ مشہور پروگرام “وہ کیا ہے “بھی یہاں فلمایا گیا تھا ۔

 جھیل سیف الملوک

 وادی کاغان کے شمال میں واقع  جھیل سیف الملوک ایک جنّت نظیر جھیل ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح جھیل سیف الملوک کا رخ کرتے ہیں۔ اس کا سفر بھی ایک ایڈوینچر  ہے ،کیونکہ اس جھیل تک پہنچنے  کے لیے بلند و بالا پہاڑوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔

اس جھیل کے بارے میں  ایک عجیب کہانی بھی مشہور ہے، کہ مصر کے ایک شہزادے سیف الملوک کو خواب میں ایک پری نظر آئی ،جس کا نام بدی الجمال تھا ۔یہ شہزادہ اس  پری کی تلاش میں نکل پڑا ،اور چھ سال تک دنیا میں گھومنے کے بعد آخر کار ایک بزرگ نے اسے اس جھیل کا پتہ بتایا۔  شہزادہ نے اس جھیل پر  چالیس دن کا  چلہ کاٹا ،اور پھر چودہویں کی رات کو پری بدی الجمال اس جھیل سے نکلی۔ تبھی اس جھیل کا نام جھیل سیف الملوک رکھ دیا گیا۔ اور  مشہور ہے کہ ہرمہینے کی  چودہویں کی رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں ۔ یہ جھیل خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

پرنسس آف ہوپ

 کراچی سے تقریباً 190 کلومیٹر دور بلوچستان میں موجود مکران کوسٹر کے بیچ و بیچ  ایک پتھر کا مجسمہ بنا ہوا ہے ۔یہ دیکھنے میں ایک عورت کا مجسمہ لگتا ہے، اور ایسا پتہ چلتا ہے کہ اس نے برقع پہنا ہوا ہے ۔اسے پرنسس آف ہوپ کہتے ہیں۔ اس کو یہ نام2010  میں  انجلینا جولی  Angelina Jolie نے دیا تھا ۔ یہ مجسمہ کس نے بنایا یہ کوئی نہیں جانتا ۔  اس سنسان جگہ پر ایک مجسمہ اور بھی موجود ہے جو کہ مصر میں موجود The Great Prince of Stacy کے مجسمہ سے ملتا جلتا ہے ۔یہ دونوں مجسمے کب اور کس نے بنائے ،یہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 750 سال پرانے ہیں ۔

شیخوپورہ قلعہ

شیخوپورہ کو پہلے جہانگیرپورہ بھی کہا جاتا تھا ،کیونکہ مغل بادشا جہانگیر یہاں قیام کیا کرتا تھا ۔شیخوپورہ قلعہ جہانگیر کے دور سنہ 1607 میں تعمیر کیا گیا تھا ۔پھر اس جگہ پر سکھوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ اور پھر برطانوی راج کے دوران اس قلعے کو انگریزوں نے اپنے قبصے میں لے لیا ۔اس قلعے کی تاریخ بھی  انتہائی دلچسپ ہے۔ اس قلعے کے اندر ایک حویلی بھی موجود ہے۔ اس چھ منزلہ حویلی میں کوئی بھی  بغیر اجازت نہیں جا سکتا۔ حویلی کے اندر چمگادڑوں اور چوہوں نے قبصہ کیا ہوا ہے۔  مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں اب جنّات کا بسیرا ہے اور انہیں یہاں بوڑھی عورتیں بھی نظر آتی ہیں۔

پیر چٹال نورانی گندھاوا

یہ بلوچستان کے علاقے جھل مکسی کے بیچ و بیچ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ جہاں ہر سال سیکڑوں سیاح رخ کرتے ہیں۔ اس جگہ پر ایک انتہائی خوبصورت تالاب موجود ہے، جس میں ہزاروں مچھلیاں تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔یہ مچھلیاں دو فٹ تک لمبی ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مچھلیاں یہاں صدیوں سے موجود ہیں۔  مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی  نے انہیں  نقصان پہنچنے  یا کھانے کی کوشش کی، تو اس انسان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہو گی۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے، کہ مچھلیاں کھانے والے انسان کے پیٹ سے واپس نکل آہیں گی ۔ ان کہانیوں نے اس جگہ کو مزید پراسرار بنا دیا ہے  ۔

مزید دیکھیں

ملتے جلتے مضامین

اوپر جائیں
Close
error: Alert: Content is protected !!